سرفراز بگٹی: ریاست شہریوں کو دہشت گردوں کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑ سکتی

ریاست شہریوں کو دہشت گردوں کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑ سکتی، نجی املاک کا تحفظ مالک کی ذمہ داری ہے: وزیر اعلیٰ سرفراز بگٹی

کوئٹہ( سید سردار محمد خوندئی )
وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے بلوچستان اسمبلی میں پالیسی بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ ریاست کسی صورت اپنے شہریوں، سیکیورٹی اہلکاروں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو دہشت گردوں کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑ سکتی۔ بلوچستان میں امن کے لیے سول اور ملٹری بیلنس برقرار رکھنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
قائد حزب اختلاف کے پوائنٹ آف آرڈر پر اظہار خیال کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ سیکیورٹی فورسز اس وقت "گرے زون” میں آپریٹ کر رہی ہیں۔ انہیں دہشت گردی کے خلاف مؤثر کارروائی کے لیے سازگار ماحول یعنی "اینیبلنگ انوائرمنٹ” فراہم کرنا ہوگا۔
میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ جس بے دردی سے ہمارے جوانوں کو شہید کیا جا رہا ہے، ان کی لاشوں کو جلایا جا رہا ہے، اس کی مذمت کے لیے الفاظ کم ہیں۔ کل شہید ہونے والے کیپٹن کی 6 ماہ کی بیٹی ہے، دالبندین میں شہید کیپٹن کے خاندان کا دکھ ناقابل بیان ہے۔ ہر اسمبلی اجلاس کا آغاز فاتحہ خوانی سے ہونا معمول کی بات نہیں۔
باغات اور نجی املاک کے حوالے سے دو ٹوک مؤقف
وزیر اعلیٰ نے اپنے بیان کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے کبھی عوام سے بندوق اٹھانے کا مطالبہ نہیں کیا۔ فوج، ایف سی اور پولیس کا کام لڑنا ہے۔ عوام کا کام صرف اطلاع دینا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر کسی کی نجی ملکیت، باغ، ہوٹل یا دکان دہشت گردوں کے مورچے اور حملوں کے لیے استعمال ہو رہی ہے تو ریاست خاموش نہیں رہ سکتی۔ جس طرح ہوٹل ایکٹ اور رینٹل ایکٹ میں اطلاع دینا لازم ہے، اسی طرح باغات کے لیے بھی اطلاع دینا ہوگی۔ اگر کوئی اطلاع نہیں دے گا تو ریاست اسے سہولت کار سمجھنے پر مجبور ہوگی۔
شور پارود آپریشن، مستونگ شامل نہیں
نقل مکانی کے حوالے سے وزیر اعلیٰ نے واضح کیا کہ خیبر پختونخوا میں پورے ڈویژن خالی کرائے گئے لیکن بلوچستان میں آج تک ایک گاؤں بھی خالی نہیں کرایا گیا۔ موجودہ منصوبے میں مستونگ شامل نہیں۔
شور پارود ایک پہاڑی سلسلہ ہے جہاں 1970 سے فراری کیمپ ہیں۔ وہاں صرف 1 ہزار کے قریب خانہ بدوش آبادی ہے جنہیں عارضی طور پر منتقل کیا جائے گا۔ یہ مستقل نقل مکانی نہیں، صرف پلاننگ اسٹیج پر ہے۔ حکومت ان کی عزت، خواتین، بچوں اور بزرگوں کا مکمل خیال رکھے گی۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ اس جنگ کے دو ہی حل ہیں۔ پہلا ڈائیلاگ، اگر کوئی مذاکرات سے حل نکال سکتا ہے تو سامنے آئے، حکومت خیر مقدم کرے گی۔ لیکن دنیا میں ایسی کوئی مثال نہیں جہاں تشدد پسند گروہ سے مذاکرات کامیاب ہوئے ہوں۔
دوسرا راستہ وار فیئر اور لاء فیئر کو مؤثر بنانا ہے۔ انٹیلیجنس بیسڈ، ملٹری، ایف سی، پولیس، سی ٹی ڈی کے آپریشنز ناگزیر ہیں۔ اگر آپریشن نہیں کرنے تو متبادل حل بتایا جائے۔
آخر میں انہوں نے کہا کہ آئین حقوق کے ساتھ وفاداری بھی مانگتا ہے۔ عوام اپنی نجی املاک دہشت گردوں کو استعمال نہ کرنے دیں، ورنہ صبر کی بھی ایک حد ہوتی ہے۔

Related posts

Leave a Comment